Wednesday, December 29, 2021

نیچر کا برتاؤ صرف ایک خدا " اللہ " تعالی اور صرف ایک مذہب " دین اسلام " ہی کی تائید کرتا ہے

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

تمام مذہبی کتابوں میں لکھا ہے کہ

God is one

یعنی خدا ایک ہے

یعنی کسی کتاب میں یہ نہیں لکھا ہوا ہے کہ

Gods are two or more

کہ خدا دو یا دو سے زیادہ ہیں۔

مگر دنیا کے ان تمام مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان جو خدا کے وجود کو مانتے ہیں صدیوں سے اس بات پر جھگڑا ہے کہ اس خدا کا نام کیا ہے؟

ہر مذہب کا پیروکار خدا کا نام الگ الگ بتاتا ہے جس کی وجہ سے صدیوں سے ان کے درمیان نفرت و عداوت اور جنگیں جاری ہیں اور ان جنگوں کی وجہ سے معصوم انسانوں کی ہلاکت و بربادی ہو رہی ہے نیز بے تحاشہ مال کا ضیاع بھی ہو رہا ہے جس کی وجہ سے دنیا کے اکثر انسانوں میں غربت و جہالت، فقر و فاقہ، لاعلاج بیماری، چوری، ڈکیتی، خودکشی اور خواتین کی جسم فروشی بھی ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اگر مذاہب کے درمیان جو خدا کے نام پر جھگڑا ہے اسے ختم کرنے کے لیے

Behavior of Natures

یعنی قدرت و نیچر کے برتاؤ کو ایک غیر جانبدار جج کی طرح مان لیا جائے کہ جس خدا اور مذہب کی نیچر کا برتاؤ تائید کر رہا ہو صرف اسی خدا اور مذہب کو مانا جائے اور جس خدا اور مذہب کی نیچر کا برتاؤ تائید نہ کر رہا ہو اسے نہ مانا جائے تو انسانوں کے درمیان صدیوں سے جاری یہ مذکورہ مذہبی نفرت و عداوت اور جنگیں بآسانی ختم ہوسکتی ہیں اور پوری دنیا خوشحال اور جنت نما بن سکتی ہے ان شاء اللہ تعالی کیوں کہ تمام یا اکثر انسانوں کے ایک ہی خدا/ بھگوان/ ایشور/ God / اللہ اور مذہب پر متفق ہونے کی وجہ سے دنیا مستقل طور پر پر امن اور خوشحال ہو جائےگی جس میں امیر و غریب سب کا فائدہ ہے۔

نومولود انسانی بچے، بچیاں، گائے، بیل، شیر،مرغے،مرغیاں، کوے، بلیاں، کتے کابچہ یہ سب واضح طور پر صرف دین اسلام کے خدا " اللہ " تعالی کا نام لے رہے ہیں۔ ان میں سے ایک بھی غیر مسلموں کے مصنوعی خداؤں میں سے کسی خدا کا یا مذہبی پیشوا کا نام نہیں لے رہا ہے۔

ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ یہ ویڈیوز بناوٹی یا جعلی ہیں کیوں کہ اگر ایسا ہے تو غیر مسلم بھی اپنے خداؤں کے نام پر ویڈیوز بناکر لے آئیں جن میں یہ سب ان کے خدا کا نام لے رہے ہوں؟

مگر ایسا یہ لوگ کبھی بھی نہیں کرسکتے لہذا معلوم ہوا کہ یہ سب ویڈیوز اصلی ہیں۔

نیز بادلوں، درختوں،درخت کے پتوں، مچھلیوں، انسان کے مختلف اعضاء، آلو، ٹماٹر، سیب، پیاز، جانوروں، پرندوں اور دیگر بہت سی چیزوں پر " اللہ " تعالی کانام قدرتی اور فطری طور پر لکھا ہوا ظاہر ہوا ہے جوکہ اللہ تعالی کا معجزہ ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ واقعی مذہبی کتابوں میں جو کہا گیا ہے کہ خدا ایک ہے اس کا نام " اللہ " ہی ہے۔

کیوں کہ غیر مسلموں کے مصنوعی خداؤں یا ان کے مذہبی پیشواؤں میں سے کسی کا بھی نام ان مذکورہ چیزوں میں سے کسی چیز پر بھی ظاہر نہیں ہوا ہے۔

بہرحال میرے خیال سے اگر میڈیا اور کانفرنسوں کے ذریعہ اللہ تعالی کے اس غیرجانبدار قدرتی اور فطری معجزہ کو دنیا کے انسانوں تک پہنچا دیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ دنیا کے تمام یا اکثر غیر مسلم اللہ تعالی ہی کو خدا، ایشور اور بھگوان ماننے والے نہ بنیں اور دین اسلام میں داخل نہ ہوں۔

لہذا مساجد، و مدارس اور کانفرسوں کے ذریعہ عوام الناس کو یہ ویڈیوز اور اللہ والی قدرتی تصویریں دکھائی جائیں تاکہ سب یا اکثر انسانوں تک یہ اللہ تعالی کا معجزہ اللہ تعالی کے فضل اور ان کی توفیق سے پہنچ جائے اور تمام یا اکثر انسان صرف انہی کو ماننے والے بن جائیں۔

ویسے بھی اللہ تعالی نے قرآن کریم سورہ نمبر 41 آیت نمبر 53 میں کہا ہے کہ

سَنُرِيهِمْ ءَايَتِنَا فِى ٱلْءَافَاقِ وَفِىٓ أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ ٱلْحَقُّ ۗ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ شَهِيدٌ

ترجمہ: ابھی ہم انہیں آسمان و زمین کی وسعتوں میں اور خود ان کی ذاتوں میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان کیلئے بالکل واضح ہو جائے گاکہ بیشک وہ ہی حق ہے اورکیا تمہارے رب کا ہر چیز پر گواہ ہونا کافی نہیں ؟

یعنی اپنی نشانیاں دکھانے کی بات کی ہے جس سے کہ حق و باطل کھل کر سامنے آجائے۔

بہر حال افضل ذکر بھی چونکہ اللہ ہی کی یاد ہے اس اعتبار سے بھی یہ کام بہت اہم بن جاتا ہے۔

لیکن اس بات کو دنیا کے غیر مسلموں تک پہنچانے کے لئے وسائل کی ضرورت ہے اس لئے اللہ تعالی سے گزارش ہے کہ وہ غیب سے اس کام کے لیے بھرپور وسائل مہیا کردیں، مہربانی ہوگی۔

آپ ہمارے ساتھ تعاون کرنے یا کام کرنے کے لئے رابطہ کر سکتے ہیں۔

آپ کا ایک اسلامی بھائی

مولانا ابرار عالم پاکستانی

واٹس ایپ نمبرز:

00923332100668

00923452215476

Saturday, April 3, 2021

نیچر کائنات کے سچے خدا کے نام کی واضح نشاندہی کررہی ہے

فطرت واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کررہی ہے کہ اس کائنات اور بنی نوع انسان کا بادشاہ، خالق اور خدا صرف "اللہ" ہے۔
اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم سب انسان اپنی سوچ کو درست کریں اور اللہ کو ایک حقیقی خدا اور خالق کی حیثیت سے قبول کرلیں تاکہ ہم ہمیشہ کے لیے جہنم سے نجات پائیں یا پھر نیچر کے ذریعے اس نے جو اپنا نام "اللہ" لکھ کر اور بلواکر دکھادیا ہے پریکٹیکل طور پر اسے مسترد کرکے اپنی موت کے بعد ہمیشہ کے لیے آخرت میں دردناک سزا پائیں۔

نیچر سو فیصد غیرجانبدار ہے اور صرف دین اسلام کے "اللہ" کے حق میں ہے۔

آپ ملاحظہ کریں کہ کس طرح بیل اور گائے صرف "اللہ" کے نام بول کر دہرارہے ہیں۔ 






آپ کسی بھی بیل یا گائے کی کوئی ایسی ویڈیو نہیں لاسکتے جو غیرمسلموں کے کسی بھی خدا کا نام بول کر دہرارہے ہوں۔

لہذا اللہ رب العزت کے سوا کوئی سچا اور حقیقی خدا اس کائنات میں موجود نہیں۔
ہندو کہتے ہیں کہ خدا ہر چیز میں ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر صرف مسلمانوں کا خدا ہر چیز میں ہے کیونکہ نوزائیدہ بچے، شیر، گائیں، بیل، کتے، بلی، مرغ، کوے، مور وغیرہ صرف "اللہ" ہی کا نام بول کر پکار رہے ہیں اور ان میِں سے کوئی بھی غیرمسلموں کے کسی خدا کا نام بول کر نہیں پکارتا۔ 


نومولود بے بی صرف "اللہ" کا نام پکار رہا ہے



کتے کا پلہ صرف "اللہ" کا نام پکار رہا ہے


 

مرغ صرف "اللہ" کا نام پکار رہا ہے



جنگل کا بادشاہ شیر صرف کائنات کے بادشاہ "اللہ" کا نام پکار رہا ہے



کوا صرف "اللہ" کا نام پکار رہا ہے


 

مور صرف "اللہ" کا نام پکار رہا ہے



ہندوؤں کے مطابق گائے اور بیل بھی ان کے خدا ہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر ہندوؤں کو بھی اپنی زبان سے "اللہ" کا نام ہی پکارنا چاہئے کیونکہ ان کے خدا گائے اور بیل یعنی ان کی مائیں اور باپ اپنی زبان سے صرف "اللہ" ہی کا نام صاف صاف کہہ رہے ہیں۔

نیچرکی غیرجانبدار مخلوق ہندوؤں کی شکتی دیوی کے حق میں کیوں نہیں ہے؟
انسانوں کے نوزائیدہ بچے، گائے، بیل، شیر، مرغ وغیرہ ہندوؤں کے خداوں کا نام بول کر کیوں نہیں پکار رہے؟
یہ سب صرف اللہ ہی کا نام کیوں بول کر پکار رہے ہیں؟

ہندوؤں کے خداوں نے نیچر کی مخلوق کو "اللہ" کا نام بول کر پکارنے سے کیوں نہیں روکا؟

ہم دنیا میں مستقل طور پر ہمیشہ کے لیے امن قائم نہیں کرسکتے اور ہم دنیا سے غربت اور ناخواندگی کو ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کرسکتے جب تک کہ ہم میں سے اکثریت صرف ایک ہی سچے خدا "اللہ" پر یقین نہیں کرتی کیونکہ بہت سے خداؤں کے تصور کی موجودگی انسانوں کے درمیان نفرت اور جنگوں کی بنیادی وجہ ہے اور آپس میں جنگیں کرنا انسانوں کے تمام بڑے اہم مسائل کی وجہ ہے۔

Sunday, March 7, 2021

ہمیں دنیا میں امن کے لئے تمام باطل خداوں کی عبادت بند کرنی چاہیے

 اگر دنیا میں صرف ایک ہی خدا کا تصور ہوتا جیسا کہ تمام مذہبی کتابوں میں کہا جاتا ہے تو اس دنیا میں انسانوں کے درمیان بڑی بڑی جنگیں نہ ہوتیں جو اس وقت دنیا میں غربت، جہالت اور معصوم انسانوں کی تباہی کی اصل وجہ ہے۔

دنیا میں بہت سے خداوں کا تصور انسانوں کے درمیان اہم مسائل کی بنیاد اور جڑ ہے۔

دنیا کے تمام انسانوں کے مسائل کا حقیقی اور پریکٹیکل حل یہی ہے کہ ہم تمام انسان صرف ایک سچے خدا اللہ کے وجود پر یقین کرلیں اور صرف اسی کی عبادت اور بندگی کریں۔

ہمیں تمام باطل اور تصوراتی خداوں کو چھوڑدینا چاہیے اور ان کی عبادت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ نیچر صرف دین اسلام کے خدا اللہ کا حکم مانتی ہے اور غیرمسلموں کے معبودوں کا حکم نہیں مانتی۔

اگر آپ میری بات سے اتفاق کرتے ہیں تو مجھ سے رابطہ کریں اور انسانیت کی بھلائی کے لیے کام کریں۔

Monday, April 20, 2020

جانیئے کہ اس دنیا میں اللہ تعالی کن لوگوں پر رحم نہیں کرتا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شروع اللہ کے نام سے جو سب پر مہربان ہے اور بہت مہربان ہے۔

عربی کے قاعدے سے رحمن کے معنی ہیں وہ ذات جس کی رحمت بہت وسیع ( Extensive) ہو، یعنی اس رحمت کا فائدہ سب کو پہنچتا ہو اور رحیم کے معنی ہیں وہ ذات جس کی رحمت بہت زیادہ (Intensive) ہو، یعنی جس پر ہو مکمل طور پر ہو، اللہ تعالیٰ کی رحمت دنیا میں سب کو پہنچتی ہے، جس سے مومن کافر سب فیضیاب ہو کر رزق پاتے ہیں اور دنیا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور آخرت میں اگرچہ کافروں پر رحمت نہیں ہوگی ؛ لیکن جس کسی پر (یعنی مومنوں پر) ہوگی، مکمل ہوگی کہ نعمتوں کے ساتھ کسی تکلیف کا کوئی شائبہ نہیں ہوگا۔ رحمن اور رحیم کے معنی میں جو یہ فرق ہے اس کو ظاہر کرنے کے لئے رحمن کا ترجمہ سب پر مہربان اور رحیم کا ترجمہ بہت مہربان کیا گیا ہے۔

(آسان ترجمہ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی)۔

سوال: قارئین گرامی ! اوپر "بسم اللہ الرحمن الرحیم" کے ترجمہ و تفسیر سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالی دنیا میں مسلم و کافر سب پر مہربان ہے اور وہ رب العالمین یعنی سب کی پرورش کرنے والا ہے۔

یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کی جب اللہ تعالی دنیا میں سب پر مہربان ہے تو پہر خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بہت سے مسلم اور غیر مسلم جنگوں میں قتل ہوئے تو ان پر اللہ کو رحم کیوں نہیں آیا کہ وہ اپنی طاقت سے یا فرشتوں کے ذریعہ جنگیں روک دیتے تاکہ یہ سب قتل نہ ہوتے؟

اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لےکر اب تک یعنی 1441ھ تک بہت کروڑوں کی تعداد میں مسلم و غیر مسلم جنگوں میں قتل ہوئے۔ مثال کے طور پر جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوئم وغیرہ۔ حالیہ دنوں میں 9/11، افغانستان، عراق، لیبیا، شام، میانمار، فلسطین، پاکستان ہندوستان جنگ، مقبوضہ کشمیر، چیچنا، بوسینیا، سائوتھ افریقہ وغیرہ وغیرہ کہ یہاں جنگوں میں بہت سے معصوم مسلم و غیر مسلم قتل ہوئے، زخمی ہوئے، یتیم ہوئے، بیوہ ہوئے، غریب ہوئے، بے گھر ہوئے، بے وطن ہوئے، در بدر اور ذلیل و رسوا ہوئے وغیرہ وغیرہ۔

لہذا سوال تو بنتا ہے کہ ایک طرف اللہ تعالی اپنے کلام قرآن کریم کے شروع میں دعوی کرتا ہے وہ اس دنیا میں سب پر "رحمان" یعنی رحم کرنے والا ہے جبکہ دوسری طرف انسانوں کا صدیوں سے جنگوں کی وجہ سے یہ حال ہوا ہے تو اللہ کا رحم کہاں ہے؟

جواب: بہت سے مسلم و غیر مسلم کے ذہن میں مذکورہ سوال ضرور پیدا ہوسکتا ہے یا ہوتا ہوگا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے جو قرآن کریم کے شروع ہی میں جو دعوی کیا ہے وہ اپنی جگہ بالکل صحیح ہے۔ قبل اس کے کہ میں تفصیل سے جواب دوں آپ سب سے ایک سوال پوچھتا ہوں کہ اگر کوئی آنکھ والا ہو اور سامنے رواں دواں ٹریفک دیکھنے کے باوجود روڈ پار کرنے کی زبردستی کوشش کرے اور اس کا اکسیڈینٹ میں انتقال ہوجائے تو کیا آپ کو اس پر رحم آئےگا؟

یا کوئی نا بینا راستہ پر چل رہا ہو اور سامنے کنواں کا گڑھا ہو، کوئی بینا اسے آواز دے کہ رک جائو سامنے گڑھا ہے اور وہ سنی ان سنی کرکے اس میں گر کر مرجائے تو کیا آپ کو اس پر رحم آئےگا؟

میرے بھائی آپ سب کہو گے کہ آنکھ کا صحیح استعمال نہ کرنے کی وجہ سے اور کان کو صحیح طرح استعمال نہ کرنے کی وجہ سے خود ان کی غلطی ہے اور اس نے ہٹ دھرمی دکھائی ہے اور اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے وہ دونوں مارے گئے۔ اس میں کسی کا قصور نہیں ہے۔ آپ کہیں گے کہ جب کوئی خود اپنے آپ کو مارنا چاہے تو اس پر رحم کیسا؟

میرے بھائی جب آپ یہ سمجھ گئے تو پہر پہلے مندرجہ ذیل آیات کو غور سے پڑھ لیں تاکہ آپ کو مذکورہ سوال کا جواب مل جائے کہ اللہ تعالی واقعی " رحمان " یعنی سب پر رحم کرنے والے ہیں مگر بہت سے انسان اپنے دل و دماغ، آنکھ، کان، لاجک، اور کامن سینس کو صحیح طور پر استعمال نہ کرنے کی وجہ اور ہٹ دھرمی سے جان بوجھ کر جنگیں کرتے اور اللہ تعالی کی بات نہیں مانتے تو اس میں کس کا قصور ہے؟ اللہ تعالی نے قرآن کریم کہہ دیا ہے کہ ہم نے دونوں راستے دکھادیئے۔ بغیر خطرے والا اور خطرے والا راستہ بھی ۔ اب اگر کوئی خود خطرے والے راستہ پر چلتا ہے اور ڈاکوئوں کے ہاتھوں لٹ جاتا ہے تو اس میں اللہ کا قصور نہیں قصور اس خطرے والے راہ پر جان بوجھ کر چلنے والے کا ہے۔

اللہ تعالی نے ہر انسان کو اس دنیا میں اختیار دے کر بھیجا ہے کہ اچھائی کرو یا برائی تمہاری مرضی۔ نا تو ہم زبردستی نیکی  کرنے سے روکیں گے اور نہ بدی کرنے سے کیوں کہ ان دونوں صورتوں میں انسان بے بس اور مجبور ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالی نے اختیار دینے کے ساتھ ہدایات بھی دیں قرآن کریم اور صحیح احادیث کی صورت میں کہ کس طرح قتل اور مصائب سے بچنا ہے۔ لہذا اللہ تعالی ہر صورت میں سب پر مہربان ہے اور غلطیاں خود انسانوں کی ہیں۔ لوگ خود دل و دماغ اور عقل استعمال نہیں کرتے اور ہٹ دھرمی کرتے ہیں۔ دل و دماغ، عقل اور کامن سینس کے مطابق خدا صرف ایک ہی ہے۔ لوگوں نے بہت سے خدا کیوں بنا لئے جنکی وجہ سے جنگیں ہوتی اور پھر لوگ قتل ہوتے ہیں؟

(1) قرآن کریم سورہ نمبر 21 سورہ الانبیآء آیت نمبر 22

لَوۡ کَانَ فِیۡہِمَاۤ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا ۚ فَسُبۡحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الۡعَرۡشِ عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿۲۲﴾

ترجمہ:

اگر آسمان اور زمین میں اللہ کے سوا دوسرے خدا ہوتے تو دونوں درہم برہم ہوجاتے۔ (١٠) لہذا عرش کا مالک اللہ ان باتوں سے بالکل پاک ہے جو یہ لوگ بنایا کرتے ہیں۔

تفسیر:

10: یہ توحید کی ایک عام فہم دلیل ہے۔ اور وہ یہ کہ اگر اس کائنات میں ایک سے زیادہ خدا ہوتے تو ہر خدا مستقل خدائی کا حامل ہوتا، اور کوئی کسی کا تابع نہ ہوتا۔ اس صورت میں ان کے فیصلوں کے درمیان اختلاف بھی ہوسکتا تھا۔ اب اگر ایک خدا نے ایک فیصلہ کیا، اور دوسرے خدا نے دوسرا فیصلہ تو یا تو ان میں سے ایک دوسرے کے آگے ہار مان لیتا، تو پھر وہ خدا ہی کیا ہوا جو کسی سے ہار مان لے، یا دونوں اپنے اپنے فیصلے کو نافذ کرنے کے لیے زور لگاتے تو متضاد فیصلوں کی تنفیذ سے آسمان اور زمین کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ اسی دلیل کی ایک دوسری تشریح یہ بھی کی جاسکتی ہے کہ جو لوگ آسمان اور زمین کے لیے الگ الگ خدا مانتے ہیں، ان کا یہ عقیدہ اس لیے بالکل باطل ہے کہ مشاہدے سے یہ بات ثابت ہے کہ یہ پوری کائنات ایک ہی مربوط نظام میں بندھی ہوئی ہے۔ چاند، سورج اور ستاروں سے لے کر دریاؤں، پہاڑوں اور زمین کی نباتات اور جمادات تک سب میں ایک ہم آہنگی پائی جاتی ہے جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ان سب کو ایک ہی ارادے، ایک ہی مشیت اور ایک ہی منصوبہ بندی نے کام پر لگا رکھا ہے۔ اگر آسمان اور زمین کے خدا الگ الگ ہوتے تو کائنات میں اس ربط اور ہم آہنگی کا فقدان ہوتا، جس کے نتیجے میں یہ سارا نظام درہم برہم ہوجاتا۔

(2) قرآن کریم سورہ نمبر 23 سورہ المؤمنون آیت نمبر 91

مَا اتَّخَذَ اللّٰہُ مِنۡ وَّلَدٍ وَّ مَا کَانَ مَعَہٗ مِنۡ اِلٰہٍ اِذًا لَّذَہَبَ کُلُّ اِلٰہٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعۡضُہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ ؕ سُبۡحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿ۙ۹۱﴾

ترجمہ:

نہ تو اللہ نے کوئی بیٹا بنایا ہے، اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور خدا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا، اور پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتے۔ پاک ہے اللہ ان باتوں سے جو یہ لوگ بناتے ہیں۔

(3) قرآن کریم سورہ نمبر 17 سورہ الاسراء آیت نمبر 42

قُلۡ لَّوۡ کَانَ مَعَہٗۤ اٰلِـہَۃٌ کَمَا یَقُوۡلُوۡنَ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰی ذِی الۡعَرۡشِ سَبِیۡلًا ﴿۴۲﴾

ترجمہ:

کہہ دو کہ : اگر اللہ کے ساتھ اور بھی خدا ہوتے جیسے کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو وہ عرش والے (حقیقی خدا) پر چڑھائی کرنے کے لیے کوئی راستہ پیدا کرلیتے۔

تفسیر:

24: یہ توحید کے حق میں اور شرک کے خلاف ایک عام فہم دلیل ہے اور وہ یہ کہ خدا ایسی ذات ہی کو کہا جاسکتا ہے جو ہر کام پر قدرت رکھتی ہو، اور کسی کے حکم کے تابع نہ ہو۔ اب اگر اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کے سوا اور بھی خدا ہوتے تو ان میں سے ہر ایک دوسرے سے آزاد ہوتا، اور سب کی قدرت کامل ہوتی۔ چنانچہ یہ دوسرے خدا مل کر عرش والے خدا پر چڑھائی بھی کرسکتے۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ ان کو خدا پر چڑھائی کرنے کی قدرت نہیں ہے، اور وہ خود اللہ تعالیٰ کے محکوم ہیں تو پھر وہ خدا ہی کیا ہوئے ؟ ثابت ہوگیا کہ کائنات میں حقیقی خدا تو ایک ہی ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔

استدلال: قارئین گرامی ! اوپر اللہ تعالی نے 3 آیات میں عقل، لاجک، اور کامن سینس سے ثابت کیا کہ خالق کائنات، خدا اور God ایک ہی ہے دوسرا کوئی نہیں جسکا نام اللہ ہے۔

مگر لوگوں نے ان آیات پر عقل، و لاجک اور کامن سینس استعمال نہ کرکے اللہ تعالی کی نافرمانی کی بلکہ بغاوت کیا۔ اس لئے اللہ تعالی نے بھی ایسے اندھے بہرے اور ہٹ دھرم لوگوں پر رحم نہیں کیا اور نہ ہی کرتا ہے۔ اللہ تعالی واضح طور پر حکم دیا کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانو تاکہ تم پر رحم کیا جائے مگر اس کے باوجود تقریبا اس وقت سات ارب انسانون میں سے ساڑھے 6 ارب ان کی اور ان کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہیں مانتے حالانکہ لوگوں کو حکم ہے ان دونوں کی بات ماننے کی جیسا کہ اس آیت میں ہے۔

قرآن کریم سورہ نمبر 8 سورہ الانفال آیت نمبر 21

وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَ ہُمۡ لَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿۲۱﴾

ترجمہ:

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو کہتے تو ہیں کہ ہم نے سن لیا، مگر وہ (حقیقت میں) سنتے نہیں۔

قرآن کریم سورہ نمبر 3 سورہ آل عمران آیت نمبر 132

وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۱۳۲﴾ۚ

ترجمہ:

اور اللہ اور رسول کی بات مانو، تاکہ تم سے رحمت کا برتاؤ کیا جائے۔

آئیے اب ان آیات کو سمجھتے ہیں جن میں اللہ تعالی نے ان لوگوں کے بارے میں جو دل ودماغ، کامن سینس اور آنکھ کان کو صحیح طور پر استعمال نہیں کرتے، ان کے بارے میں کتنا سخت الفاظ استعمال کیا ہے؟

(1) قرآن کریم سورہ الفرقان سورہ نمبر 25 آیت نمبر 44،

اَمۡ تَحۡسَبُ اَنَّ اَکۡثَرَہُمۡ یَسۡمَعُوۡنَ اَوۡ یَعۡقِلُوۡنَ ؕ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ سَبِیۡلًا ﴿٪۴۴﴾

ترجمہ:

”کیا تم سمجھتے ہو کہ ان کی اکثریت، سماعت کا یا عقل کا استعمال کرتی ہے؟ نہیں، بلکہ یہ تو محض جانور ہیں، یا ان سے بھی زیادہ بدتر۔“

(2) قرآن کریم سورہ نمبر 8 سورہ الانفال آیت نمبر 22

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰہِ الصُّمُّ الۡبُکۡمُ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۲۲﴾

ترجمہ:

یقین رکھو کہ اللہ کے نزدیک بدترین جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔ (١١)

تفسیر:

11: پچھلی آیت میں سننے سے مراد سمجھنا ہے، اور مطلب یہ ہے کہ کافر لوگ کانوں سے تو سننے کا دعوی کرتے ہیں، مگر سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، اس لحاظ سے وہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں، کیونکہ بےزبان جانور اگر کسی کی بات کو نہ سمجھیں تواتنی بری بات نہیں ہے، ان میں یہ صلاحیت پیدا ہی نہیں کی گئی، اور نہ ان سے یہ مطالبہ ہے، لیکن انسانوں میں تو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کی گئی ہے، اور ان سے یہ مطالبہ بھی ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر کوئی راستہ اپنائیں، اگر وہ سمجھنے کی کوشش نہ کریں تو جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔

(3) قرآن کریم سورہ نمبر 10سورہ یونس آیت نمبر 99

وَ لَوۡ شَآءَ رَبُّکَ لَاٰمَنَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ کُلُّہُمۡ جَمِیۡعًا ؕ اَفَاَنۡتَ تُکۡرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۹۹﴾

ترجمہ:

اور اگر اللہ چاہتا تو روئے زمین پر بسنے والے سب کے سب ایمان لے آتے (٤٠) تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کرو گے تاکہ وہ سب مومن بن جائیں ؟

تفسیر:

40: یعنی اللہ تعالیٰ زبردستی سب کو مومن بنا سکتا تھا۔ لیکن چونکہ دنیا کے دار الامتحان میں ہر شخص سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ اپنی آزاد مرضی اور اختیار سے ایمان لائے، اس لیے کسی کو زبردستی مسلمان کرنا نہ اللہ تعالیٰ کا طریقہ ہے، نہ کسی اور کے لیے جائز ہے۔

قرآن کریم سورہ نمبر 10 سورہ یونس آیت نمبر 100

وَ مَا کَانَ لِنَفۡسٍ اَنۡ تُؤۡمِنَ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ یَجۡعَلُ الرِّجۡسَ عَلَی الَّذِیۡنَ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾

ترجمہ:

اور کسی بھی شخص کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر مومن بن جائے، اور جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے، اللہ ان پر گندگی مسلط کردیتا ہے۔ (٤١)

تفسیر:

41: اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کائنات میں کچھ نہیں ہوسکتا۔ لہذا اس کے بغیر کسی کا ایمان لانا بھی ممکن نہیں، لیکن جو شخص اپنی سمجھ اور اختیار کو صحیح استعمال کر کے ایمان لانا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے ایمان کی توفیق دے دیتا ہے، اور جو شخص عقل اور اختیار کو صحیح استعمال کر کے ایمان لانا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے ایمان کی توفیق دے دیتا ہے، اور جو شخص عقل اور اختیار سے کام نہ لے، اس پر کفر کی گندگی مسلط ہوجاتی ہے۔

(4) قرآن کریم سورہ نمبر 7 سورہ الاعراف آیت نمبر 179

وَ لَقَدۡ ذَرَاۡنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیۡرًا مِّنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ ۫ۖ لَہُمۡ قُلُوۡبٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ بِہَا ۫ وَ لَہُمۡ اَعۡیُنٌ لَّا یُبۡصِرُوۡنَ بِہَا ۫ وَ لَہُمۡ اٰذَانٌ لَّا یَسۡمَعُوۡنَ بِہَا ؕ اُولٰٓئِکَ کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡغٰفِلُوۡنَ ﴿۱۷۹﴾

ترجمہ:

اور ہم نے جنات اور انسانوں میں سے بہت سے لوگ جہنم کے لیے پیدا کیے۔ (٩١) ان کے پاس دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، ان کے پاس آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، ان کے پاس کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ وہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں، بلکہ وہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

تفسیر:

91: یعنی ان کی تقدیر میں یہ لکھا ہے کہ وہ اپنے اختیار سے ایسے کام کریں گے جو انہیں جہنم تک لے جائیں گے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ تقدیر میں لکھنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ جہنم کے کام کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، بلکہ بلا تشبیہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک استاد اپنے کسی شاگرد کے حالات کے پیش نظر یہ لکھ کر رکھ دے کہ یہ فیل ہوگا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ استاد نے اسے فیل ہونے پر مجبور کردیا۔ بلکہ اس نے جو کچھ لکھا تھا، اس کا مطلب یہی تھا کہ یہ شاگرد محنت کرنے کے بجائے وقت ضائع کرے گا اور اس کے نتیجے میں فیل ہوگا۔


خلاصہ کلام: قارئین گرامی ! میرے خیال سے اب آپ کو بخوبی سمجھ آگیا ہوگا کہ اللہ تعالی کچھ لوگوں پر کیوں رحم نہیں کرتا؟ مزید تفصیل کے لئے عذاب والی آیات کو بھی دیکھ لیجئے گا جس میں اللہ تعالی انسانوں کے بداعمالی پر سزا کی وعید سنائی ہے۔

بہر حال اگر آج بھی دنیا کے تمام یا اکثر انسان بھی اللہ تعالی کو ہی خالق کائنات مان لیں اور دوسرے تمام زمینی و مصنوعی خدائوں کو چھوڑ دیں تو آج بھی اللہ تعالی رحم کرسکتا ہے اور گناہیں معاف کرکے جنگوں اور ان کی تباہی و بربادی، غربت و جہالت و جرائم اور لاعلاج بیماریوں جیسے کورونا وائرس وغیرہ سے بچا سکتا ہے۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ یااللہ ہمارے غیر مسلم بھائیوں اور بہنوں کو اپنی عقل، لاجک، سائنس اور کامن سینس استعمال کرنے کی توفیق عطا فرما تاکہ وہ انہیں استعمال کرکے آپ پر ایمان لا سکیں اور آپ کے علاوہ تمام زمینی و مصنوعی خدائوں کی اور مذہبی پیشوائوں کی عبادت چھوڑ صرف آپ کی عبادت کرنے والے بن جائیں تاکہ آپ ان پر رحم کرسکیں اور جو مسلم مکمل دین اسلام کی پیروی نہیں کرتے اور کثرت گناہ میں ملوث ہیں ان کو بھی ہدایت دے کہ وہ سب ہر قسم کی گناہیں چھوڑ دیں تاکہ آپ ان پر بھی رحم کرسکیں۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

مزید کسی سوال کے لئے رابطہ کر سکتے ہیں۔

آپ کا ایک انسانی و اسلامی بھائی مولانا ابرار عالم۔

0092 345 22 15 476

0092 333 21 00 668

www.rightfulreligion.com

Saturday, January 18, 2020

دماغ پر شیاطین تو قابض نہیں؟

دنیا کے غیر مسلم بھائیوں اور بہنوں

(1) آپ لوگ میڈیا کی اس خبر پر یقین کیوں نہیں کرتے کہ ایک مردہ سنی مسلم شہید " شاہ یقیق بابا" کا قبر محلہ چوہڑ جمالی، ضلعہ ٹھٹھہ، صوبہ سندھ پاکستان میں معجزاتی ہسپتال بنا ہوا ہے جہاں صدیوں سے مسلم و غیر مسلم لاعلاج مریضوں کا علاج اور ان کا میڈیکل آپریشن ہو رہا ہے؟

(2) اگر یقین ہے تو دین اسلام قبول کیوں نہیں کرلیتے؟

(3) اگر شک ہے تو اس بارے تحقیقات کیوں نہیں کرتے؟

(4) اگر کوئی سوال ہے تو پوچھ کیوں نہیں لیتے؟

(5) اور اگر دماغ ہی کام نہیں کررہا ہے تو اپنے ماہر میڈیکل ڈاکٹروں سے علاج کیوں نہیں کروالیتے؟

(6) تیز اور ذہین دماغ کے بل بوتے پر بہت ساری دنیاوی جدید ٹیکنالوجیز ایجاد کرلئے اور بہت ساری تحقیقات کرلئے بلکہ چاند اور مریخ پر بھی پہنچ گئے، اب ذرا مذہبی تحقیقات کی طرف بھی توجہ دے لو تاکہ اکثر انسانوں کو سچے خدا کا پتہ لگ جائے اور سب اس پر متحد ہو کر مرنے کے بعد عذاب قبر اور جہنم سے بچ سکیں اور اس دنیا جعلی خدائوں کے نام پر جنگوں اور ان کی تباہی سے بچ سکیں؟

(6) کیا کوئی منصف اور کامن سینس کو ماننے والا غیر مسلم دنیا میں ہے جو مجھ سے اس موضوع پر بحث کرے یا میرا ساتھ دے تاکہ دنیا کو اللہ کے حکم اکثر انسانوں کو ایک سچے خدا پر متحد کرکے جنت نما بنا سکوں؟

Tuesday, January 14, 2020

غریب لوگ کس طرح دنیا سے غربت ختم کرسکتے ہیں؟

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: ہم سب غریب لوگ کس طرح دنیا سے غربت کو ختم کرسکتے ہیں؟

جواب: اگر دنیا کے غریبوں کی اکثریت اسلام قبول کرلے کیونکہ دنیا میں مختلف مذاہب کی موجودگی ہی آپس میں بڑی بڑی جنگیں ہونے کی وجہ ہے اور جنگوں کے سبب ہی اکثر لوگ غربت میں ہیں۔

دنیا میں اس وقت تقریبا پانچ ارب غیرمسلم ہیں جن میں سے تقریبا چار ارب غریب ہیں۔

میرے خیال سے اگر یہ چار ارب غریب غیرمسلم اسلام میں داخل ہوجائیں تو ہمیشہ کے لیے غربت ختم کرسکیں گے کیونکہ اس طرح دنیا میں مسلمانوں کی تعداد تقریبا چھ ارب ہوجائے گی جبکہ ابھی مسلمانوں کی تعداد تقریبا دو ارب ہے۔

ایسی صورتحال میں کہ غیرمسلم ایک ارب ہوں اور مسلمان چھ ارب ہوں، غیرمسلم مسلمانوں سے بڑی جنگیں نہیں کرنا چاہیں گے۔

اس طرح ہر ملک میں جنگوں پر خرچ ہونے والا پیسہ حکومت اور لیڈرز کے ذریعے غریبوں کی غربت ختم ہونے پر استعمال ہوسکے گا۔

لہذا اگر دنیا کے چار ارب غریب غیرمسلم اپنی غربت کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو جلد از جلد اسلام میں داخل ہوجائیں۔

اس کے علاوہ ان کے پاس ہمیشہ کے لیے غربت ختم کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔

مزید یہ کہ وہ مرنے کے بعد ہمیشہ کے عذاب قبر و عذاب جہنم سے بھی بچ سکیں گے جیسا کہ قرآن کریم سورہ نمبر 2، آیت نمبر 161-162 اور سورہ نمبر 3، آیت نمبر 91 میں بتادیا گیا ہے کہ کفر کی حالت میں مرنے کی وجہ تمام کفار درد ناک عذاب میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

اسی وجہ سے ان کے جسم و روح میں مرنے کے بعد کوئی طاقت نہیں رہتی۔

اس پر عملی ثبوت یہ ہے کہ نیک مسلمانوں کی لاشیں زمین کے اوپر یا زمین کے اندر فطری حالت میں تروتازہ و سلامت رہتی ہیں جبکہ غیرمسلموں کی لاشیں زمین کے اندر یا اوپر فطری حالت میں بدبودار ہوکر سڑ گل جاتی ہیں۔

انبیاء کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، شہدائے اسلام رحمة الله علیہم اور اولیائے کرام رحمة الله عليهم کی روحیں موت کے بعد بھی کام کررہی ہیں اور ہزاروں غیرمسلم روزانہ ان کی قبروں پر جاکر ان کے ذریعہ اللہ سے رحمتیں و برکتیں حاصل کرتے ہیں کیونکہ وہ زندہ ہیں جیسا کہ قرآن کریم سورہ نمبر 2، آیت نمبر 154 اور سورہ نمبر 3، آیت نمبر 169 تا 171 میں بتایا گیا ہے۔

مثال کے طور پر پاکستانی نیوز ٹی وی چینلز، میڈیا و اخبارات نیز بی بی سی اردو انٹرنیشنل رپورٹس کے مطابق ایک سنی مسلم شہید "شاہ عقیق بابا" کی روح صدیوں سے اپنی قبر پر آنے والے مسلم و غیر مسلم لاعلاج مریضوں کا علاج اور میڈیکل آپریشن کررہی ہے۔

قبر کا ایڈریس: شاہ عقیق محلہ چوہڑ جمالی، ضلعہ ٹھٹھہ، صوبہ سندھ پاکستان

لیکن ہماری تحقیقات کے مطابق کسی ایک بھی مردہ غیرمسلم کے بارے میں دنیا میں کسی بھی مسلم یا غیرمسلم ملک کے آفیشل ٹی وی چینلز، اخبارات و میڈیا رپورٹس موجود نہیں کہ ان کے ملک میں کسی مردہ غیرمسلم کی روح لاعلاج مریضوں کا علاج اور میڈیکل آپریشن کررہی ہو بلکہ سوشل میڈیا پر ہم سے بات کرنے والے غیرمسلم تو خود بھی کہتے ہیں کہ ایسا ممکن ہی نہیں۔

اسی لیے نہ ہی مردہ غیرمسلم کی قبر پر ہزاروں غیرمسلم جاتے ہیں اور نہ ہی وہاں کئی کئی دن اور راتیں ٹھہرتے ہیں کہ ان کے ذریعہ خدا سے برکات حاصل کریں۔

ب سوال یہ ہے کہ صرف اسلام ہی کیوں قبول کیا جائے؟ الحاد، بدھ مت، ہندو مت، یہودیت، عیسائیت، قادیانیت، شیعیت وغیرہ کیوں نہیں؟

جواب: وہ اس لیے کہ نیچر (nature) جیسے آگ، پانی، مٹی، ہوا اور کائنات صرف دین اسلام کے سنی مسلمانوں کو ہی سپورٹ کررہی ہے جیسا کہ میں اوپر بتاچکا ہوں۔ اس بارے میں مزید تفصیلات و ثبوت و شواہد کے لیے ویب سائٹ www.rightfulreligion.com کا مطالعہ کریں۔

یہ نیچرز اور کائنات عملی طور پر دین اسلام کے سوا کسی بھی دین و مذہب کو سپورٹ اور تعاون نہیں کرتے ہیں۔ نیچرز چونکہ سو فیصد غیر جانبدار ہوتے ہیں اس لئے عملی طور پر تعاون و سپورٹ صرف دین اسلام کے حق میں ثابت کرتے ہیں جس سے یہ فیصلہ ہوا کہ نیچر اور خالق کائنات کے نزدیک اس وقت صرف دین اسلام ہی قابل قبول اور پسندیدہ دین و مذہب ہے جیسا کہ قرآن کریم سورہ نمبر 3 آیت نمبر 19 اور سورہ نمبر 5 آیت نمبر 3 میں اعلان ہے نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دین اسلام کے سوا دیگر تمام ادیان و مذاہب یا تو نا مکمل ہیں یا منسوخ ہیں یا باطل ہیں کیوں کہ ان مذکورہ نیچرز اور کائنات کی مدد و تعاون ان کے حق میں نہیں ہے جیسا کہ میں اوپر بتاچکا ہوں نیز قرآن کریم نے بھی سورہ نمبر 3 آیت نمبر 85 میں اعلان کردیا ہے۔

لہذا برائے مہربانی اس پیغام کو دنیا کے تمام غریب انسانوں تک پہنچائیے تاکہ انہیں غربت سے ہمیشہ کے لیے نجات مل جاسکے۔

اگر آپ کو کوئی سوال پوچھنا ہو تو ہم سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=640021486402857&id=100011850340377

اگر آپ دنیا کے غریب مسلموں اور غریب غیر مسلموں کے مسائل کے اس حل سے اتفاق کرتے ہیں تو مہربانی کرکے انسانیت کی خاطر اسے دوسروں تک پہنچائیں تاکہ دنیا کے غریب انسانوں کو مشکلات سے نکالا جائے اور اگر آپ اتفاق نہیں کرتے تو میری اصلاح کریں۔ مہربانی ہوگی۔

Saturday, December 14, 2019

شیاطین کے مقابلے میں اکثر انسان بے وقوف ہیں

 شیاطین کے مقابلے میں ہم میں سے اکثر انسان بیوقوف ہیں کیوں کہ شیاطین آپس میں اس طرح نہیں لڑتے اور نہ ہی ایک دوسرے سے اس طرح نفرت کرتے ہیں جس طرح ہم میں سے اکثر شیاطین کی باتوں میں آکر ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے اور نفرتیں کرتے ہیں۔

ہر انسان کو اس دھرتی پر عارضی زندگی ملی ہوئی ہے جو کہ دس سیکینڈ سے 60 سے 70 سال یا زیادہ سے زیادہ 100 وغیرہ سال تک کے لئے ہے۔ اتنی سی وقت کے لئے کیا کسی سے نفرت کرنی یا لڑنا جھگڑنا ہے؟

اس دنیا سےجاتے وقت یہ زمین کوئی اپنے جیب میں لے کر نہیں جاتا۔ لہذا مودی صاحب جیسے لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ وہی کام کرے جس سے دنیا کے اکثر انسان اس کے مرنے کے بعد اسے اچھے نام اور کردار سے یاد کرے نہ کہ برے الفاظ سے یاد کرے۔

اپنے وقت کو قیمتی سمجھو، زندگی کی قدر کرو کیوں کہ سب کچھ چھوڑ کر اچانک کسی بھی وقت یہاں سے چلے جانا ہے اور پہر کبھی نہیں آنا۔

اس لئے سب سے پہلے اس کائنات کے خالق کی تلاش کرو اگر نہی کیا ہے۔ اور اگر کرلیا ہے جو کہ اللہ ہے تو اس سے پیار کرو، اس کو یاد کرو اور اسی کی عبادت کرو کیوں کہ صرف وہی ہمیشہ کے لئےآنکھ بند ہونے کے بعد کام آئےگا۔

لہذا ہر آدمی اپنی آخرت کی فکر کرے اور بے فائدے کے کام نا کرے۔

اکیلے میں روزانہ صرف 15 منٹ سوچیں کہ کیا آپ شریف ہیں؟

اگر ہاں تو آپ کامیاب ورنہ ناکام ہیں اور آپ کو اپنے کئے کی سزا بھگتنی ہوگی اس دنیا میں یا مرنے کے بعد۔

انسان اپنے آپ کو جتنا جانتا ہے اتنا اس کو کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ کے۔

لہذا یہ تجرباتی نکتہ یاد رکھیں کہ انسان کی نیت اگر خراب ہوجائے تو اس سے بڑا کوئی شیطان اور جانور نہیں بھلے دنیا کے تمام انسان اسے فرشتہ سمجھیں لیکن اگر صرف اس کی نیت اور اس کے ارادے پاک ہو جائیں تو یہ فرشتہ سے بھی افضل ہے اگرچہ سارے انسان اسے شیطان، جانور یا برا کہیں۔

عدالت صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو اپنے آپ کی بات کو نہیں مانتا ورنہ ہر انسان اگر خود اپنے ضمیر کی عدالت کے فیصلے کو مان لے تو نہ تو کسی عدالت کی ضرورت ہے، نہ کسی جج کی اور نہ ہی کسی وکیل کی۔ لہذا آپ جو بھی کچھ کریں کرنے سے پہلے اپنے ضمیر کی عدالت سے پوچھ لیں کہ کیا آپ شریفانہ کام کر رہے ہیں یا رذیلانہ؟

اب آپ لوگ خود ہی اکیلے میں 15 منٹ میں اپنے آپ سے پوچھ لیں کہ آپ شیطان ہیں، شیطان اکبر ہیں، شیطان اصغر ہیں، جانور ہیں، درندہ ہیں، سانپ ہیں، بچھو ہیں، انسان ہیں یا فرشتہ ہیں وغیرہ وغیرہ؟

ایک شعر ہی پر عمل کرلیں تو آپ بھی بالکل بدل جائیں گے بلکہ فرشتہ بن جائیں گے اور پہر پوری دنیا کو بھی بدل سکتے ہیں۔

شعر:

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی-

تو اگر میرا نہیں بنتا، نہ بن، اپنا تو بن؟

نوٹ: نیک اور ایماندار صرف مسلم ہی ہوسکتا ہے کیوں کہ صرف دین اسلام ہی اس وقت خالق کائنات یعنی اللہ تعالی کے نزدیک مکمل ہے۔ لہذا غیر مسلم خالق کائنات کے مکمل ہدایات پر عمل ہی نہیں کرسکتا تو وہ نیک و ایماندار کیسے ہو سکتا ہے۔

البتہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آسمانی کتاب کے ذریعہ جو بھی ہدایات دیئے گئے تھے اس وقت کے اعتبار وہ ہدایا ت خالق کائنات کو راضی کرنے کے لئے مکمل تھے اور اس وقت جو ان ہدایات پر عمل کرتے تھے وہ نیک اور شریف ہوجاتے تھے۔ آخر میں آسمانی کتاب قرآن کریم اتارا گیا ہے لہذا اسے مانے بنا کوئی بھی شریف اور ایماندار نہیں بن سکتا۔ اس لئے مندرجہ بالا مضمون پر عمل کرکے کوئی بھی کافر اللہ تعالی کے نزدیک ایماندار اور کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ دین اسلام کو قبول کرلے۔ کیوں کہ کفر کی حالت میں موت کی صورت میں عذاب قبر اور جہنم ہے۔ اسے کامیابی نہیں کہا جاسکتا۔

Friday, November 8, 2019

آپ کا دماغ کام بھی کررہا ہے یا نہیں؟

 غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم انسان مذہب کی وجہ سے ہی ایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں۔ تمام انسانوں کا خالق اور خدا تو ایک ہی ہے۔

کیوں کہ ایک سے زائد ہوتے تو وہ بھی آپس میں طاقت کا مظاہرہ کرتے اور اپنے آپ کو منوانے کے لئے لڑتے رہتے اور کائنات میں ان کے آپس میں جھگڑنے کی وجہ سے فساد برپا رہتا اور مخلوقات میں سے اپنا اپنا حصہ لے کر الگ ہوجاتے۔

مگر ایسا نہیں ہو رہا ہے جس سے ثابت ہوا کہ تمام انسانوں کا خالق و مالک ایک ہی ہے ۔

مگر سوال یہ ہے کہ جب سب کا خالق اور خدا ایک ہی ہے تو اتنے مذاہب دنیا میں وجود میں کیسے آگئے؟

جواب: بدنیت اور دنیادار مذہبی پیشواوں نے شیاطین سے ملکر اپنے پیٹ اور شہرت کے لئے اتنے مذاہب بنا لیے ہیں اور ہم میں سے اکثر انسان اندھے بہرے ہوکر ان کی باتیں مانتے ہوئے آپس میں ایک دوسرے سے نفرت کرتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کو خدا کے نام پر قتل بھی کرتے رہتے ہیں حالانکہ سب کا خدا اور خالق ایک ہی ہے یعنی اللہ تعالی جیسا کے میں اپنے بہت سے فطری دلائل سے ثابت کرچکا ہوں۔

لہذا جلد سے جلد ہم سب انسان دین اسلام کے سوا تمام ادیان و مذاہب کو رد کردیں تاکہ ہم لوگ چند سال دنیا میں سکون، خوشحالی اور پیار و محبت سے آپس میں جی سکیں۔

اگر ایسا نہ کیا تو یہ ڈھونگی اور پیٹ کے پجاری مذہبی پیشوا اور شیاطین ہم انسانوں کو ہمیشہ لڑاتے ہی رہیں گے اور اور چین و سکون اور خوشحالی سے ہمیں جینے نہیں دیں گے جیسا کہ صدیوں سے ہوتا آرہا ہے۔

کیا ہے کوئی غیر مسلم مذہبی پیشوا جو بتائے کہ خالق کائنات کے نزدیک ہندوازم، بدھ ازم، یہودیت، عیسائیت، سکھ ازم، جین ازم، پارسی ازم، قادیانیت، شیعہ ازم اور دیگر مذاہب میں سے کونسا مذہب اس ایک خالق کائنات کے نزدیک قابل قبول ہے؟

کیا یہ سارے مذاہب درست ہیں؟

اگر ہاں تو سب کے مطابق عبادت اور پوجا کیجئے نا؟

اگر سب درست نہیں تو فطرت اور نیچر کے نزدیک ان میں سے کونسا درست ہے؟

یا سب باطل ہیں؟

کیا ہے کوئی ان سوالوں کا جواب دینے والا؟

نہیں، کبھی نہیں اور ہرگز نہیں!

دیکھ لیں کہ ہم انسانوں کے دماغوں پر یہ شیاطین اور پیٹ کے پجاری مذہبی پیشوا کس قدر قابض ہیں کہ ہم ان کے چنگل سے نکل کر صحیح خدا یعنی اللہ تعالی اور اس کے ملاوٹ سے پاک سچے دین "اسلام" تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔

لہذا تمام انسانوں سے اپیل ہے کہ ایک دوسرے سے نفرت کرنے اور ایک دوسرے کو ناجائز قتل کرنے سے قبل ذرا غور کرلیں کہ آپ کا دماغ بھی کام کر رہا ہے یا نہیں؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ شیاطین، منفی طاقت اور ڈھونگی غیر مسلم مذہبی پیشواوں کے اکسانے اور بہکانے پر غلط قدم اٹھاکر اپنی دنیا و آخر ت برباد کرنے جارہے ہیں؟

Wednesday, February 27, 2019

دنیا میں یا کسی بھی ملک میں مسقل طور پر امن کی صرف ایک ہی صورت ہے

 وہ یہ ہے کہ دنیا کے تمام یا اکثر انسانوں کا دین و مذہب صرف ایک ہو جائے۔

اس کے علاوہ دنیا یا کسی بھی ملک میں مستقل طور پر امن کے قیام کی کوئ بھی صورت نہیں ہے۔

کیوں کہ ماضی میں جتنی بھی بڑی جنگیں ہوئیں یا ابھی ہو رہی ہیں یا ہوں گی ان سب کی بنیادی وجہ بہت سے حق و باطل ادیان و مذاہب کی موجودگی ہے۔ مفادات دوسرے نمبر پر ہیں۔ اسی بنا پر اب تک دنیا میں مستقل طور پر امن کے قیام کی ساری کوششیں رائیگاں گئی ہیں۔ مثال کے طور پر آج اگر ہندوستان کے سارے ہندو مسلمان ہو جائے تو کشمیر کا جھگڑا ختم ہو جائےگا۔ سارے یہودی مسلمان بن جائیں تو فلسطین پر جھگڑا ختم ہو جائےگا۔ سارے افغانی عیسائی بن جائیں تو ساری غیر مسلم فوجیں وہاں سے نکل جائیں وغیرہ وغیرہ

لہذا دنیا کے عقل مند انسانوں سے گزارش ہے کہ اندھے بہرے ہو کر امن کے قیام کے لئے کام نہ کریں ورنہ کوئ فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر واقعی آپ لوگ مستقل طور پر امن قائم کرنا چاہتے ہیں تو عالمی میڈیا کے ذریعہ دنیا کے تمام انسانوں کو اطلاع دیں کہ وہ دنیا میں مستقل طور پر امن قائم کرنے کے لئے صرف اس ایک دین و مذہب پر متحد ہوجائیں جن کے سچے پیروکاروں کی لاشیں فطری حالت میں بوسیدہ نہیں ہوتیں اور جن کے شہداء اور صوفیوں کی روحیں مرنے کے بعد بھی لوگوں کا علاج کرتیں اور ان کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔

جب تک دنیا کے تمام یا اکثر انسان ایک دین و مذہب پر متحد نہیں ہوں گے مستقل طور پر امن قائم نہیں ہو سکتا اور جب تک امن قائم نہیں ہوگا جنگوں پر لا محدود پیسے خرچ ہونے کی وجہ سے کروڑوں معصوم انسانوں کی تباہی کے ساتھ ساتھ دنیا کے اکثر انسانوں میں غربت رہےگی جو جہالت، جرائم، خوکشی، بیماری اور جسم فروشی وغیرہ کی وجہ ہے۔

یعنی دنیا میں بہت سے ادیان و مذاہب کی موجودگی کی وجہ سے دنیا کے اکثر انسانوں کے لئے مستقل امن اور ترقی عارضی ہی ثابت ہوگا۔

ایک دوسری صورت ہے امن کے قیام کی اور وہ یہ کہ دنیا کے تمام ممالک اقوام متحدہ کے ذریعہ آپس میں پکا معاہدہ کر لیں کہ وہ سب کسی بھی صورت میں جنگیں نہیں لڑیں گے۔ مگر یہ صورت بھی امن کے قیام کی عارضی ہی ہے جیسا کہ ہم لوگ دیکھ رہے ہیں کہ طاقتور ممالک ان معاہدوں کا کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھتے۔

بہر حال دنیا کے وہ لوگ جو انسانیت اور دین و مذہب سے پیار کرتے ہیں اور مستقل طور پر امن کے قیام کا خواہاں ہیں ان سے گزارش ہے کہ اگر وہ مخلص ہیں تو میرے دیئے گئے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے امن اور ترقی لانے کی خود کوشش کریں یا ہمارا ساتھ دیں ورنہ کولہو کے بیل کی طرح ساری زندگی ایک ہی دائرہ میں چکر کاٹتے رہیں۔

مانئے نہ مانئے اب آپ جانئے۔

Tuesday, September 11, 2018

کیا کبھی ہندووں کے خداووں نے کسی ایک ہندو کی لاش آگ میں جلنے سے محفوظ رکھی؟

مسلمان جب مسلم لاشوں کو زمین میں دفن کرکے ان کے خدا اللہ تعالی کے حوالے کرتا ہے تو ان میں سے نیک مسلمانوں کی لاشوں کو ان کے قبروں میں بوسیدہ ہونے سے بچا لیتا ہے مگر اگر ہندوئوں کے خدا الگ ہیں تو ان کے خدا نے کسی ایک ہندو کی لاش کو اب تک جلنے سے کیوں نہیں بچایا؟ یا کیوں نہیں بچاتا؟

کیا کوئی ہندو یہ دعوی کر سکتا ہے کہ اس کا خدا کسی بھی نیک ہندو کی لاش کو مستقبل میں جلنے سے بچالےگا؟ نہیں ہر گز نہیں۔

لیکن میں دعوی کرتا ہوں کہ مسلمانوں کا خدا اللہ تعالی مستقبل میں بھی اپنے نیک مسلمانوں کی لاشوں کو محفوظ کرتا رہےگا۔

کیا کوئی ہندو ہے جو میرے اس چیلنج کو قبول کرے؟ نہیں بالکل بھی نہیں اور کبھی بھی نہیں۔

وجہ اس کی یہ ہے کہ قرآن کریم سورہ آل عمران سورہ نمبر 3 آیت نمبر 91 میں دعوی ہے کہ وہ ہمییشہ کافروں کی لاشوں کو عذاب دے کر سڑاتا گلاتا کرتا رہےگا اور قرآن کریم سور آل عمران سورہ نمبر 3 آیت نمبر 169 کے مطابق مسلمانوں کے خدا اللہ تعالی نے دعوی کیا ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کی لاشوں کو باطنی غذا دے کر بوسیدہ ہونے سے محفوظ کرتا رہےگا۔

دنیا میں کوئ ہندو، بدہھست، یہودی، عیسائی، سکھ، جینی، آتش پرست، قادیانی اور شیعہ کبھی بھی میرے مذکورہ دعووں کو چیلنج کرنے کی جرات نہیں کرسکتا اور یہ میری پیشین گوئی ہے کہ کوئی کبھی میرے مذکورہ دعووں کو غلط ثابت بھی نہیں کرسکتا۔

اس مذکورہ تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ نیچر مٹی نے نیک مسلمانوں کی لاشوں کو نہ کھاکر یہ ثابت کردیا کہ صرف دین اسلام ہی خدا کے نزدیک سچا دین و مذہب ہے جبکہ دوسرے ادیان و مذاہب منسوِخ یا باطل ہیں کیوں کہ ان میں سے کسی کی لاش کو بھی نیچر بوسیدہ ہونے سے نہیں بچاتی۔

ہندو لوگ اپنی لاشوں کو قبروں میں دفن نہیں کرتے بلکہ منوں لکڑیوں کے اندر رکھ کر ان پر گھی اور تیل چھڑک کر انہیں سنگدلی اور بے مروتی سے آگ لگا کر جلا دیتے ہیں حالانکہ مرنے کے بعد تو انسان زیادہ احترام اور محبت کے مستحق ہوتے ہیں مگر ان کے دماغوں پر شیاطین قابض ہوتے ہیں اور ان کے اندر سے رحم دلی چھین لیتا ہے۔

بہر حال یہاں نیچر آگ نے ہندووں کی لاشوں میں سے کسی بھی لاش کو جلنے سے نہ بچا کر یہ گواہی دے دی ہے اور اوپر قرآن کریم کا دعوی سچ ثابت کردیا کہ ہندو لوگ مرنے کے بعد عذاب میں چلے جاتے ہیں ۔ اس لئے ان میں سی کسی کی لاش بھی جلنے سے محفوظ نہیں رہتی۔

جلنے کے موضوع کی مناسبت سے بتادوں کہ سورہ نمبر 21 آیت نمبر 69 کے مطابق اللہ تعالی نے ایک زندہ انسان یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نار نمرود میں جلنے سے بچا لیا تھا۔ جبکہ آج بھی کوئی کافر یہ عملی طور پر ثابت نہیں کر سکتا کہ ان میں سے کسی کو بھی مسلمانوں کے مقابلے میں ان کا خدا آگ میں جلنے سے بچا سکتا ہے۔

سچا خدا کون ہے؟ (پریکٹیکل ثبوتوں کے ساتھ)

 بسم اللہ الرحمن الرحیم اس کائنات کا خالق، خدا، ایشور اور God صرف "اللہ" تعالی ہے: دین اسلام کے خدا "اللہ" تعالی کا نام ...